احمد فواد کا شماران شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں شاعری کے سفر کا آغاز نثری نظم سے کیا اور ادبی دنیا میں شاخت حاصل کی۔ احمد فواد کا اصل نام فرید احمد ہے ۔ وہ 1954ء میں سوات کے مضافات شانگلہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے تاریخ اور انگریزی میں ماسٹرز کی ڈگری لی۔ اگر چہ ان کی مادری زبان پشتو ہے لیکن اردو، عربی ، فارسی اور انگریزی زبانوں پر پوری دسترس رکھتے ہیں۔ فرانسیسی زبان سے بھی تھوڑی بہت شناسائی ہے۔ احمد فواد نے شاعری کا آغاز اسکول کے زمانے سے کیا۔ کراچی یونی ورسٹی میں تعلیم کے دوران وہ مشاعروں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے اور اپنی منفر د شاعری کی وجہ سے ادبی حلقوں میں ان کی شاعری کو خوب شہرت ملی اور انہیں ادبی حلقوں میں ایک خاص مقام حاصل ہو گیا۔ زمانہ ٔطالب علمی میں کراچی سے شائع ہونے والے اخبارات روز نامہ جسارت، نوائے وقت اور پندرہ روز ہ وقت کے ساتھ منسلک رہے۔ روزنامہ امت کراچی میں کافی عرصہ تک کالم لکھتے رہے ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ 1991ء میں سامنے آیا۔ یہ مجموعہ نثری نظموں پر مشتمل تھایوں احد فواد نے اپنے پہلے ہی شعری مجموعے میں نثری نظم کی ہیت کو اظہار کا وسیلہ بنایا۔ اس مجموعے کو نئی نظم کےحلقوں میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ بعد ازاں ان کے دو اور شعری مجموعے ”دل ورق ورق تیرا‘‘ اور ’’ایک جانب چاندنی‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کا ایک شعری مجموعہ پشتو زبان میں بھی ’’کہ تہ راغلے زہ بہ گل شم‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے اردو میں ایک ناول بھی لکھا۔